اقرار الحسن نے اس فحا شی لڑکی کو ایسی زندگی دے دی کہ جان کر ہر کو ئی عش عش کر اٹھا

سرعام کے اقرار الحسن نے فحاشی کے اڈے پر چھاپہ مارا اور ایک خاتون سے پوچھا کہ کیوں کرتی ہیں آپ یہ کام تو لڑکی نے جواب دیا یار میرے بچے ہیں چھوٹے چھوٹے اس چکر میں مجھے کرنا پڑتا ہے۔

میرے شوہر سے میری علیحدگی ہوگئی ہے آپ آکر میری بلڈنگ میںبھی پوچھ لیں میں اپنی ممی کے ساتھ رہتی ہوں اس پر اقرار الحسن نے کہا آپ جوکہیں گی ہم سچ مانیں گے لڑکی نے کہا میں اپنی بیٹی کی قسم کھا کر کہتی ہوں لیکن اولاد کی قسم میں جھوٹی نہیں کہوں گی اس پر اینکر اقرارالحسن نے کہا اور کوئی کام نہیں ہے آپ کے خیال میں کچھ کرکے نہیں کماسکتی۔‎ تو اُس پر لڑکی نے کہا کہ آپ مجھے نوکری دلوا دیجئے اس پر اقرار الحسن نے کہا پکی بات ہے اگر ہم سر عام کی ٹیم آپ کیلئے جاب کا انتظام کر دیں تو آپ یہ کام چھو ڑ دو گی تو لڑکی نے کہا آپ جاب کر دیں ۔

سرعام کے اقرار الحسن نے فحاشی کے اڈے پر چھاپہ مارا اور ایک خاتون سے پوچھا کہ کیوں کرتی ہیں آپ یہ کام تو لڑکی نے جواب دیا یار میرے بچے ہیں چھوٹے چھوٹے اس چکر میں مجھے کرنا پڑتا ہے۔

میرے شوہر سے میری علیحدگی ہوگئی ہے آپ آکر میری بلڈنگ میںبھی پوچھ لیں میں اپنی ممی کے ساتھ رہتی ہوں اس پر اقرار الحسن نے کہا آپ جوکہیں گی ہم سچ مانیں گے لڑکی نے کہا میں اپنی بیٹی کی قسم کھا کر کہتی ہوں لیکن اولاد کی قسم میں جھوٹی نہیں کہوں گی اس پر اینکر اقرارالحسن نے کہا اور کوئی کام نہیں ہے آپ کے خیال میں کچھ کرکے نہیں کماسکتی۔‎ تو اُس پر لڑکی نے کہا کہ آپ مجھے نوکری دلوا دیجئے اس پر اقرار الحسن نے کہا پکی بات ہے اگر ہم سر عام کی ٹیم آپ کیلئے جاب کا انتظام کر دیں تو آپ یہ کام چھو ڑ دو گی تو لڑکی نے کہا آپ جاب کر دیں ۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں میزبانی سے شہرت پانے والی ادکارناجیہ بیگ نے پروگرام سے علیحدگی کے بعد ایک بار پھر سے اداکاری کا آغاز کر دیا ہے اور ان کا ایک ڈرامہ’’فیٹ فیملی‘‘جلد آن ائیر ہو جائے گا

جس کے ہدایتکار اداکار علی سکندر ہیں۔ناجیہ بیگ کا کہنا ہے کہ انہوں نے عارضی طور پر اداکاری سے علیحدگی اختیار کر کے میزبانی شروع کی تھی اور اب وہ باقاعدگی سے ڈراموں میں کام جاری رکھیں گی۔واضح رہے کہ ناجیہ بیگ کافی عرصے سے نجی ٹی وی کے شو کی میزبانی کررہی تھیں اور انہوں نے اداکاری سے عارضی طور پر کنارہ کشی اختیار کرلی تھی:۔

یہی وجہ ہے کہ جہاں ان کی اداکاری کی پزیرائی ہوتی ہے وہیں اپنے کردار کے لیے ان کی محنت کو بھی خوب سراہا جاتا ہے لیکن اسی وجہ سے ان کی بیٹی نے انہیں بدتمیز قرار دے دیا ہے۔آئندہ ماہ عامر خان کی فلم ’’سیکرٹ سپر اسٹار‘‘ ریلیز ہونے جارہی ہے، عامر خان کی دیگر فلموں کی طرحاس فلم کی تشہیر بھی الگ طریقے سے کی جارہی ہے ،اسی سلسلے میں ایک وڈیو جاری کی گئی ہے جس میں فلم سے منسلک اداکاروں اور ماہرین اپنے اور دیگر کرداروں کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کررہے ہیں۔وڈیو میں فلم دنگل میں عامر خان کی بیٹی بننے والی زائرہ وسیم نے مسٹر پرفیکشنسٹ کے کردار کے بارے کہا ہے کہ عامر خان کے جوتے اور داڑھی بہت عجیب سی ہے ۔ دنگل کی ایک اور بیٹی ثانیہ ملہوترا نے تو انہیں بدتمیز تک کہہ دیا ہے، ثانیہ کا کہنا ہے کہ عامر خان فلم میں ایسے بدتمیز انسان بنے ہوئے ہیں جسے بات کرنے کی بھی تمیز نہیں۔

واضح رہے کہ ’’سیکرٹ اسٹار‘‘ میں عامر خان شکتی کمار نامی ایسے موسیقار کا کردار ادا کررہے ہیں جو بہت بدتمیز ہے لیکن ایک ٹی وی رئیلٹی شو میں جج کی حیثیت سے شامل ہونے کے بعد اس کی شخصیت کے مثبت پہلو بھی سامنے آتے ہیں۔

قاتل مچھلی کی زیادہ سے زیادہ لمبائی 50 سینٹی میٹرہوتی ہے اور اس کا اصلی ٹھکانہ بحر ہند اور بحر الکاہل ہے۔ بحر روم میں پہلی مرتبہ یہ 2014 میں اٹلی میں نمودار ہوئی۔ اس کے ایک برس بعد مالٹا اور کروئیشیا میں دیکھی گئی اورپھر 2016 میں یونان کے جزیرے کریٹ میں ظاہر ہوئی۔ محققین کی توجہ حاصل کرنے کے بعد قاتل مچھلی کے بارے میں یہ

بارے میں یہ انکشاف ہوا کہ یہ مصر اور اسرائیل میں بعض افراد کی ہلاکت کا سبب بنی۔ برطانوی اخبار ٹائمز کے مطابق اس کو چھونے والا سنگین پیچیدگیوں کا شکار ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے، اِلا یہ کہ پکڑنے والا یہ جانتا ہو کہ اسے اپنا ہاتھ کہاں رکھنا ہے۔قاتل مچھلی کے زہر اور خطرے کے سبب مصر میں اس کا شکار ، فروخت اور بازاروں میں لانا ممنوع ہے۔اس وقت قاتل مچھلی بڑی تعداد میں نہر سوئز پہنچ کر مچھلیوں کے پسندیدہ دسترخوان کا رخ کر رہی ہے جہاں یورپی ممالک میں پناہ کے طالب درانداز ڈوب جانے کے بعد قاتل مچھلی کی خوراک بن جاتے ہیں۔ترکی میں اس مچھلی کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں جس کا وزن بعض مرتبہ 5 کلو گرام تک پہنچ جاتا ہے۔

حکام نے ساحلی شہروں کی آبادی کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ننگے ہاتھوں سے اسے نہ چھوئیں بلکہ پلاسٹک کے برتن کے ذریعے پانی سے نکالیں اور پھر کسی گہرے گڑھے میں دفن کر دیں۔یورپی یونین نےبحر روم میںtoadfish (قاتل مچھلی) کو پھیلنے سے روکنے کے لیے قریبا 3 لاکھ امریکی ڈالر کے مساوی رقم خرچ کی ہے۔ اس سلسلے میں فی کلو مچھلی کے عوض 4 ڈالر کی رقم ادا کی جا رہی ہے

تا کہ مچھیروں کی اس کے شکار کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے اور سمندر اس مچھلی اور اس کی آفت سے محفوظ رہے۔اس مچھلی کو 1789 میں جرمن سائنس داںJohann Friedrich Gmelin نے دریافت کیا تھا۔ جوہان 1804 میں 56 برس کی عمر میں فوت ہو گیا۔ اس نے اس مچھلی کو سائنسی اصطلاح کے طور پرLagocephalus Sceleratus کا نام دیا تھا۔ تاہم عالمی سطح پر یہ مچھلیsilver-cheeked toadfish کے انگریزی نام سے جانی جاتی ہے کیوں کہ اس کا رنگ چاندی جیسا ہوتا ہے۔

اماراتی میڈیاکے مطا بق ابوظہبی کی ایک عدالت نے ایک ایشیائی بھائی اور اس کی سوتیلی بہن کو آپس میں شادی کرنے کا جرم ثابت ہونے پر چھ برس کی قید کی سزا سنا دی ہے ، ان بہن بھائی پر جعل سازی سے دستاویزات بدلنے کا بھی الزام ہے ۔ صد شرمناک بات یہ ہے کہ پولیس نے ان کی ماں کی شکایت پر بہن بھائی کو گرفتار کیا ۔

کہنے والےنے کیا خوب کہا کہ جب گلی گندگی سے بھری ہو اور آدمی گھر چمکاتا رہے تو اسے عقلمند کون تصوّر کرے گا؟ مگر شاید کہنے والے کو نہ تو پاکستانی معاشرے اور نہ ہی حکومت کا کوئی خاص علم تھا ورنہ کہنے سے پہلے ایک آدھ بار ضرور سوچ لیتا کہ یہاں تو بے تکی چیزوں کو اہمیت اور کرنے والے کاموں کو سرد خانے میں رکھا جاتا ہے۔کل شام کو پڑھتے ہوئے ایک خبر نظر سے گزری کہ سندھ کے اسکولوں میں چینی زبان سکھانے کے معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں اور اب سندھ بھر میں چینی زبان کا مضمون لازمی قرار پاۓ گا۔

اِس حوالے سے سندھ کے وزیرِ تعلیم سے لے کر پوری وزارتِ تعلیم خاصی پر جوش نظر آئی اور اس ’’اہم‘‘ سنگ میل پر ایک دوسرے کو مبارکبادیں بھی دیں گئیں۔میں نے پڑھنے کے بعد ایک لمحے کے لئے گہری سانس لی اور سوچا کہ اس بیچاری قوم کے ساتھ کتنے عجیب و غریب مذاق ہر روز ہوتے ہیں اور چینی زبان کی تعلیم اِس میں ایک نیا اضافہ ہے۔ بہرحال وقت کی اہم ضرورت، یعنی چینی زبان میں تعلیم کے مردہ گھوڑے کو ایک دفعہ پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کی گئی گویا اس کے بغیر ترقی کا حصول ممکن نظر نہیں آتا۔سندھ حکومت کے اس بروقت اور انتہائی اہم قدم کے بعد اب ذرا تعلیم سے جڑے تلخ حقائق اور اعداد و شمار پر بات کرلی جائے تو بہتر ہے کہ پاکستان کے دوسرے بڑے صوبے میں جو مثالی قدم اٹھایا گیا وہ آخر ایک عجیب سا مذاق کیوں ہے؟

پہلے تو یہ ذھن نشین کیا جائے کہ سندھ صرف کراچی کا نام نہیں ہے جیسا کہ لاہور کو پورا پنجاب سمجھ لیا گیا ہے۔ ساڑھے چار کروڑ آبادی کے اس صوبے میں شہروں سے زیادہ دور دراز گاؤں، قصبے اور دیہات ہیں۔ جہاں نظام تعلیم کی حالت بد سے بدتر ہے۔ عوام وڈیروں کے رحم و کرم پر ہیں تو اسکول جانوروں کے۔ جہاں مزدور دن بھر کی تھکن اتارنے کے لئے کسی ویران پڑے اسکول میں پناہ لے لیتے ہیں کہ وہاں کونسا علم و نور کے چشمے پھوٹ رہے ہیں جو انکے وہاں سونے سے بنجر ہوجائیں گے۔ مشکل یہ ہے کہ میڈیا وہاں ایک تو جاتا نہیں ہے اور اگر جاتا ہے تو ایک آدھی خبر سے کسی کو کیا فرق پڑتا ہے بھلا۔ادارہ آگہی تعلیم کی 2014 کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر کے 138 اضلاح کے 2,49,832 طالب علموں سے مختلف سوالات پوچھے گئے، پانچویں جماعت کے %57 طلباء دوسری جماعت کے اسباق پڑھ کر نہ سنا سکے۔ انگریزی ہی نہیں، پشتو، اردو اور سندھی میں بھی یہی حال ہے۔جنوری 2015 کی رپورٹ کے مطابق سندھ بھر میں 40 ہزار گھوسٹ اساتذہ اور 5200 گھوسٹ اسکول ہیں۔ یونیسیف کے مطابق سندھ بھر میں پرائمری سطح پر 10,268 اسکول ایسے ہیں جن کی چھت ہی نہیں ہے، 4724 ایسے اسکول ہیں جن کی حالت انتہائی تشویشناک ہے، آدھے سے زیادہ پرائمری اسکولوں میں ٹائلٹ،

پینے کا پانی، باؤنڈری وال ہی موجود نہیں ہے، جبکہ صرف 13 فیصد میں بجلی کا کنکشن موجود ہے۔یونیسیف کے مطابق پاکستان میں 65 لاکھ بچے دائرہ تعلیم سے باہر ہیں، جن میں سے زیادہ تعداد لڑکیوں کی ہے۔ اسکول میں تعلیم سے محروم بچوں پر نظر دوڑائی جائے تو نائجیریا کے بعد پاکستان دنیا میں دوسرے نمبر پر آتا ہے جس میں ساڑھے چھ ملین بچے تعلیم جیسی سہولت سے محروم ہیں۔پاکستان میں ناخواندہ افراد کی شرع بھی بھارت اور چین کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ یہاں سرکاری اور نجی اسکولوں کے معیار میں زمین آسمان کا فرق ہے اور جو لوگ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں بھی نہیں بھیج سکتے وہ انھیں مزدوری پر لگا دیتے ہیں تا کہ چار پیسے بنتے رہیں۔ صوبائی سطح پر اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے اکثر ہونہار طلباء مستقبل کے خواب سمیٹے کسی ہوٹل، چائے خانے یا پھر حمام پر نوکری کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔جس ملک میں پہلے سے یہ حال ہو کہ تعلیم کا بجٹ آٹے میں نمک سے بھی کم ہو، سرکاری اور نجی اسکولوں کے معیار میں زمین آسمان کا فرق ہو، نصاب ادنیٰ لوگ بناتے ہوں، درسی کتب میں آدھا جھوٹ آدھا سچ لکھا جاتا ہو، تعلیمی اداروں کی نگرانی کا کوئی معیار نہ ہو، مدارس کے طلباء معاشرے کا حصّہ بنتے ہوں نہ انگریزی اسکولوں کا، دینی طلباء ماضی میں جیتے ہوں اور انگلش میڈیم والے مغربی تہذیب میں، وہاں ہم ساری دنیا سے الٹ اپنی زبان چھوڑ کر سرحد پار سے چینی زبان درآمد کرلیں تو ہمیں عقلمند کون کہے گا؟

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *