اٹھارہ ماہ کی بچی کی جسم پر نشانا ت کا راز جس نے والدین کو رلا دیا

اٹھارہ ماہ کی بچی کی جسم پر نشانا ت کا راز جس نے والدین کو رلا دیا اٹھارہ ماہ کی بچی کی جسم پر نشانا ت کا راز جس نے والدین کو رلا دیا

یہ ولدین کی ذؐہ داری ہوتی ہےکہ اپنے چھوٹے بچوں کی تربیت اور نگہداشت کریں لیکن دور جدید میں پیسے کمانے کے چکر میں طرز زندگی مکمل بدل گئی ہے اب بچے ماں کی گود میں نہیں پلتے بلکہ اسکولوں میں ان کی نگہداشت اور پرورش ہوتی ہے اب بچے گھریلوں خادماؤں کے رحم و کرم پر ہوتی ہے جس کی وجہ سے بچوں کی تربیت میں کمی والدین کا عدم احساس بڑھتا جا رہا ہے ۔ بدقسمتی سے اب ہمارا طرز زندگی کچھ ایسا ہو چلا ہے کہ بہت سے والدین یہ ذمہ داری خود نبھانے کی بجائے ملازمین کے سپرد کر دیتے ہیں۔ بچوں کا معاملہ ایسا حساس ہے کہ والدین کو اپنے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئیے، کجا یہ کہ معصوم پھولوں کو ملازمین کے حوالے کر دیا جائے۔ اپنے کمسن بچوں کو کسی اور کے رحم و کرم پر چھوڑنے کا نتیجہ کس قدر دردناک ہو سکتا ہے، آپ اس کااندازہ بھارت میں پیش آنے والے ایک واقعے سے بخوبی کر سکتے ہیں۔

دی مرر کے مطابق یہ تکلیف دہ واقعہ ریاست پنجاب کے شہر کپورتھلہ میں پیش آیا جہاں ایک ڈیڑھ سالہ بچی کے والدین گزشتہ کچھ عرصے سے اس کے جسم پر کچھ پراسرار نشانات دیکھ رہے تھے لیکن سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ ایسا کیوں ہو رہا تھا۔ بالآخر ایک دن انہوں نے اس بات کی کھوج لگانے کے لئے گھر میں ایک خفیہ کیمر الگا دیا اور بچی کو حسب معمول ملازمہ کے حوالے کر کے خود کام پر چلے گئے۔ جب واپس آ کر انہوں نے کیمرے کی ویڈیو چیک تو انہیں اپنے سوالات کا جواب تو مل گیا لیکن ویڈیو کے مناظر ایسے دردناک تھے کہ بیچارے والدین تو کیا کوئی بھی دیکھے تو تڑپ کر رہ جائے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے ایک معصوم سی بچی بیڈ پر لیٹی ہے اور اس کی ٹانگیں اوپر کی طرف بلند ہے جو کہ اسے سزا کے طور پر ایسے کرنے کو کہا گیا ہوتا ہے جس کے بعد ملازمہ آتی ہے جس کے ہاتھ میں ایک چھڑی ہوتی ہے جو زور زور سے اس بچی کی نازک جسم پر مارتی ہے جس سے اس کی ثیخنے کی آوازیں بلند ہو جاتی ہے جٓلیکن وہ درندہ نامی خاتون بالکل احساس سے عاری اس کام میں مگن رہتی ہے اور پھر بچی کو کسی کھلونے کی طرح اٹھا کر بیٹھ سے اونچا کر کے زور سے پٹختی ہے اور کافی دیر تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے ۔

اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد والدین تو غم کے مارے نڈھال ہوگئے اور انہوں نےاس ملازمہ کو پولیس کے حوالے کرد ٓیا لیکن اس سے اتنا سبق ضرور ملا کہ اپنے لال کی خود تربیت کرنی چاہئے کیونکہ دوسرے اسے جسمانی تشدد کے ساتھ ذہنی تشدد کا بھی نشانہ بناتے ہیں جس کے اثرات ان کی پوری زندگی پر نظر آتے ہیں

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *