منہ کے راستے جماع کرنے کا فتویٰ آ گیا۔ جانیں اس پر کیا حکم ہے

منہ کے راستے جماع کرنے کا فتویٰ آ گیا۔ جانیں اس پر کیا حکم ہے منہ کے راستے جماع کرنے کا فتویٰ آ گیا۔ جانیں اس پر کیا حکم ہے جانیں اس پر کیا حکم ہے منہ کے راستے جماع کرنے کو ناجائز قرار دیا گیا ہے اور اسی بارے میں سنن ابی دائو میں ایک مفصل حدیث موجود ہے۔ سید نا عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ انصاری لوگ بت پرست تھے اور یہودی اہل کتاب تھے ۔

انصاری لوگ اپنے آپ پر یہودیوں کو افضل سمجھتے تھے۔ لہذا بہت سے کاموں میں وہ انکی پیروی کرتے تھے۔ اور اہل کتاب میں یہ بات رائج تھی کہ وہ عورتوں کے ساتھ صرف ایک ہی طریقہ سے جماع کرتے تھے اور اس عورت کی زیادہ چھپی رہتی تھی۔ انصاریوں نے بھی ان سے یہی بات اخذ کی تھی۔ قریشی لوگو عورتوں سے کھل کر جماع کرتے تھے اور آگے پیچھے چت لٹا کر جماع کرتے تھے۔ جب مہاجرین مدینہ آئے تو ان میں سے ایک آدمی نے انصاری عورت سے شادی کر لی اور مہاجر اپنے طریقے سے جماع کرنا چاہتا تھا لیکن عورت نے منع کر دیا اورصرف ایک ہی طریقے سے جماع کے قائل تھی۔ اور اس نے کہا کہ یا تو اس طریقے سے جماع کرو یہ دور رہو۔ حتیٰ کہ ان کا معاملہ طول پکڑ گیا اور نبی ﷺ تک جا پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

تماری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں لہٰذا تم جس طریقے سے چاہو ان سے جماع کرو یعنی آگے سے خواہ پیچھے لٹا کر یعنی اولاد والی جگہ سے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیویوں کو مردوں کی کھیتی قرار دیا ہے اور انہیں اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے کا حکم دیا ہے کہ وہ بیویوں اور لونڈیوں کے علاوہ اپنی شرمگاہ کا کہیں اور استعمال نہ کریں۔ اور پھر جماع کرنے سے ہم قسم کے طریقوں کو جائز وار رکھا بشرطیکہ صرف فرج کے راستے جماع کیا جائے۔
آدمی نے اپنی ہی سالی کا ریپ کردیا بیوی سمجھ کر پوری رات اس کے ساتھ ہمبستری کرتا رہا آدمی نے اپنی ہی سالی کا ریپ کردیا بیوی سمجھ کر پوری رات اس کے ساتھ ہمبستری کرتا رہا آدمی نے اپنی ہی سالی کا ریپ کردیا، عدالت میں جج نے ڈانٹا تو آگے سے ایسی وجہ بتادی کہ کمرے میں موجود ہر شخص کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا

آسٹریلیا میں ایک نوجوان نے اپنی ہی سالی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا اور جب اسے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا اور جج نے اسے ڈانٹا تو اس نے ایسی بات کہہ دی کہ ہر کوئی دنگ رہ گیا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلوی شہر میلبرن میں متاثرہ لڑکی اس 24سالہ ملزم کی بیوی کی جڑواں بہن تھی۔ جج کے ڈانٹنے پر ملزم نے کہا کہ ”میں کنفیوژ ہو گیا تھا، مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ یہ میری محبوبہ ہے یا اس کی بہن، کیونکہ دونوں ہو بہو ایک جیسی دکھائی دیتی ہیں۔“’میرے گھر میں کوئی گھس آیا ہے اور۔۔۔‘ رات گئے پولیس کو خاتون کا فون، موقع پر پہنچے تو چور چھپ کر اکیلا بیٹھا کیا شرمناک ترین کام کررہا تھا؟

دیکھ کر پولیس والے بھی شرماگئےرپورٹ کے مطابق متاثرہ لڑکی اپنے شوہر سے علیحدگی کے بعد اپنے اس بہنوئی اور بہن کے ہاں رہائش پذیر تھی۔ ملزم نے سالی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اس کے شوہر کو فون کر دیا اور الٹا الزام عائد کرتے ہوئے اسے بتایا کہ ’تمہاری بیوی نے مجھ پر جنسی حملہ کر دیا ہے اور میرے ساتھ زیادتی کر ڈالی ہے۔ متاثرہ لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ ”ملزم جھوٹ بول رہا ہے۔ میں اپنے کمرے میں تھی کہ ملزم وہاں آ گیا اور مجھ پر جنسی حملہ کر دیا۔اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ میں اس کی سالی ہوں، حملہ کرنے پر میں نے اسے بتایا بھی تھا کہ میں تمہاری بیوی نہیں سالی ہوں، پھر بھی وہ باز نہیں آیا۔“ رپورٹ کے مطابق عدالت کی طرف سے جرم ثابت ہونے پر نوجوان کو 4سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ شاور کے نیچے یا کہیں اور کھڑے ہو کر غسل کرنا درست ہے؟ کچھ لوگ کھڑے ہو کر غسل کو منع کرتے ہیں۔ برائے مہربانی غسل کرنے کا صحیح اسلامی طریقہ بتا دیجئے۔ شکریہ جواب: اسلام دین یُسر یعنی آسانی کا دین ہے۔ قرآن وحدیث میں کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر غسل کرنے پر بحث ہی نہیں کی گئی۔ اس لیے جدید سے جدید دور بھی آ جائے تو اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے میں دشواری نہیں ہو گی۔ بعض لوگوں کا پیشہ بن چکا ہے کہ جان بوجھ کر اسلام کے نام پر لوگوں پر من مانی سختیاں مسلط کرتے رہتے ہیں۔ معلوم نہیں ان کو اس میں کیا فائدہ ہے۔

لہٰذا جس طرح غسل کرنے میں آسانی ہو اور باپردہ جگہ ہو، اسی طریقے سے غسل کریں۔ خواہ بیٹھ کر ہو یا کھڑے ہو کر، کوئی ممانعت نہیں ہے۔ اصل مقصد طہارت حاصل کرنا ہے۔ کیا اسلام میں کھڑے ہو کر غسل کرنا جائز ہے ؟ غسل کا صحیح طریقہ کیا ہے ؟ ایسی حقیقت جو آپ کو آج سے پہلے معلوم نہیں ہوگی اسلام دین یُسر یعنی آسانی کا دین ہے۔ قرآن وحدیث میں کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر غسل کرنے پر بحث ہی نہیں کی گئی۔ اس لیے جدید سے جدید دور بھی آ جائے تو اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے میں دشواری نہیں ہو گی۔ بعض لوگوں کا پیشہ بن چکا ہے کہ جان بوجھ کر اسلام کے نام پر لوگوں پر من مانی سختیاں مسلط کرتے رہتے ہیں۔

معلوم نہیں ان کو اس میں کیا فائدہ ہے۔ لہٰذا جس طرح غسل کرنے میں آسانی ہو اور باپردہ جگہ ہو، اسی طریقے سے غسل کریں۔ خواہ بیٹھ کر ہو یا کھڑے ہو کر، کوئی ممانعت نہیں ہے۔ اصل مقصد طہارت حاصل کرنا ہے جو شرائط ھے غسل کی وہ مدے نظر رکھ کے وضو کیجئے اور سب سے شرائط کو غور سے سمجئے۱ : اسلام قبول کرنے کے بعد غسل کرنا چاہیئے۔ ( صحیح ابن خزیمہ سندہ صحیح) ۔ ۲: جب مرد اور عورت کی شرمگائیں مل جائیں تو غسل فرض ہو جاتا ہے ۔ ( صحیح مسلم)۔۳: احتلام ہو تو بھی غسل فرض ہو جاتا ہے ۔ ( صحیح بخاری )۔۴: جمعہ کے دن غسل کرنا ضروری ہے ۔ ( صحیح بخاری و صحیح مسلم )۔۵: جو شخص میت کو نہلائے اسے غسل کرنا چاہیئے (اگر میت کے جسم سے نکلی غلاظت لگ جائے تو نہیں تو غسل ضروری نہیں بلکہ وضو کافی ہے ۔

اس پہ ہماری دوسری پوسٹ مکمل وضاحت سے موجود ہے)۔ ( رواہ الترمذی، صححہ ابن حبان و ابن حزم، نیل، صححہ الا لبانی، صححہ الحاکم و الذھبی)۔۶: احرام باندھتے وقت غسل کرنا چاہیئے ۔ ( رواہ الحاکم و سندہ صحیح، المستدرک )۔۷: عورت کو اذیت ماہانہ اور نفاس کے بعد غسل کرنا فرض ہے۔ (صحیح بخاری)۔غسل کے متفرق مسائل حالت جنابت میں رکے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے۔( صحیح مسلم)۔ پانی میں فضول خرچی نہ کرے ۔ ( احمد و ابو داود و ابن ماجہ و سندہ صحیح، التعلیقات )۔غسل کے لیے تقریباً سوا صاع یعنی چار کلو گرام پانی کافی ہے ۔ ( صحیح بخاری )۔برہنہ ہوکر پانی میں داخل نہ ہو۔ ( ابن خزیمہ، صححہ الحاکم و الذھبی۔ المستدرک)۔نہاتے وقت پردہ کر لے ۔ ( رواہ ابو داود و النسائی و احمد و سندہ حسن۔ التعلیقات للالبانی علی المشکوٰۃ )۔ اسلام قبول کرنے کے بعد بیری( کے پتوں) اور پانی سے نہائے ۔ (ابن خزیمہ و اسناد صحیح)۔اگر عورت کے بال مضبوطی سے گندے ہوئے ہوں تو انہیں کھولنے کی ضرورت نہیں۔

( صحیح مسلم) ۔مرد عورت کے اور عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل نہ کرے۔ ( ابوداود و النسائی سندہ صحٰح ، التعلیقات )۔مرد اپنی بیوی کے بچے ہوئے پانی سے غسل کر سکتا ہے ۔ (صحیح مسلم)۔ فرض غسل کرنے کے بعد دوبارہ وضوء کرنے کی ضرورت نہیں۔ ( رواہ الترمذی و صححہ)۔غسل کرنے کا طریقہؔحمام میں داخل ہونے کی دعاء بسم اللہ اعوذباللہ من الخبث و الخبائث ( رواہ العمری بسند صحیح ، فتح الباری جزء ۱ ) ۔برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھوئے۔ بائیاں ہاتھ ہر گز پانی میں نہ ڈالیں پانی دائیں ہاتھ سے لیں ۔ ( صحیح مسلم )۔ پھر بائیں ہاتھ سے اپنی شرم گاہ اور نجاست کو دھوئے۔ ( صحیح بخاری ) پھر بائیں ہاتھ کو زمین پر دو تین مرتبہ خوب رگڑے اور پھر اسے دھو ڈالے (موجودہ دور میں صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھونا کافی ہے، اگر صابن نہیں تو مٹی پہ مار سکتا ہے کیونکہ مٹی پاکی کا زریعہ ہے۔ ( صحیح بخاری و صحیح مسلم )۔

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *