میرا شوہر امام مسجد ہے ،

ایسا امام مسجد جس نے 6مرتبہ اپنی بیوی کو طلاق دی اور 6مرتبہ حلالہ کروایا، نجی ٹی وی پروگرام میں شمع کی آب بیتی سن کر ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شمع نامی خاتون نے بتایا کہ اس کا خاوند امام مسجد تھا اور ہماری شادی ارینج میرج تھی ، میرا خاوند غصیلہ، جھگڑالو اور قوم پرست شخص تھا۔کیونکہ میرا تعلق اس کی برادری سے نہ تھا جس کی وجہ سے اس کے خاندان میں بھی اس چیز کو لےکر لڑائی جھگڑے چلے جن کا بہانہ بناکر اس نے شادی کے 2یا ڈھائی سال بعد مجھے طلاق دیدی اس وقت میرا ایک بچہ تھا۔

طلاق کے بعد میں اپنے والدین کے گھر واپس آگئی اور اپنے بچے کے حصول کیلئے بے چین رہی، اسی دوران مجھے میرے خاوند نے میرے خاوند نے پیغام بھیجا کہ میں بچہ نہیں لے جانے دوں گا اور جہاں جائو گی وہاں چین سے بیٹھنے بھی نہیں دوں گا اور مجھ پر دبائو ڈال کر حلالہ کا کہا گیا اور حلالہ کیلئے میرا نکاح اپنے ایک دوست سے کر دیا جس کے ساتھ میں ایک دن رہی ، اس کے بعد اس کے دوست نے مجھے طلاق دی اور میں نے عدت پوری ہونے کے بعد اپنے پہلے شوہر سے شادی کر لی۔ شمع نے اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے بتایا کہ اس طرح مجھے میرے امام مسجد شوہر نے 6مرتبہ طلاق دی اور 6مرتبہ مجھے حلالہ کے عمل سے گزرنا پڑا۔ شمع نے آخر کار تنگ آکر صارم برنی ٹرسٹ میں پناہ لے لی اور ٹرسٹ کے بانی صارم برنی جو پروگرام میں شریک تھے نے بتایا کہ شمع دماغی طور پر بہت متاثر ہو چکی تھی جب یہ ہمارے پاس آئی۔ اس نے تنگ آکر ہمارے پاس پناہ لی اور اب اس نے اپنے بچوں سے دوری صرف اس وجہ سے برداشت کی ہوئی ہے کہ یہ نکاح اور حلالہ کا سلسلہ ختم ہواور شمع اب ہمارے پاس ہے۔

ہم نے اس کے شوہر کے خلاف علاقہ مکینوں کو تمام حالات بتائے جنہوں نے اس کے امام مسجد شوہر جو وہاں مسجد میں فرائض سر انجام دے رہا تھا کو مسجد سے نکال دیا اور اب وہ کسی اور علاقے کی مسجد میں امامت کروا رہا ہے۔

ہاتھ کی ہتھیلی کو پڑھنے کی ابتدا یہ مانا جاتا ہے کہ اس کی ابتدا ہندستان سے شروع ہوئی، دنیا بھر میں دست شناسی کی تعلیم کا علم اور عمل، چین، تبت، مصر، فارس اور یورپ کے کئی دوسرے ملکوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
یونانی علم نجوم اسے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ یونان کا عالم اناکسا غورث، جو اس وقت بھارتی برصغیر کے ارد گرد کے دوران ہاتھ کے دست شناسی کے بارے میں جانکاری حاصل کی تھی اور بعد میں علم ہرماس کے ساتھ اشتراک کیا تھا ۔
الیگزینڈر کے راز اعظم ارسطو نے ہرمیس کے قربان گاہوں میں سے ایک میں دست شناسی کے معاملہ کے بارے میں معتدل پایا، جسے اس نے اس کے بعد الیگزینڈر کو دکھایا ۔ بعد میں اس میں بہت دلچسپی بڑھ گئی اور اپنے ہتھیار کے طور پر ہاتھ کی لکیروں کا اندازہ کرکے اپنے افسران کے کردار کا معائنہ شروع کردیا۔

ہئرس اگرچہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے، لیکن بعض کہتے ہیں کہ الیگزینڈر نے اپنے ہی ہاتھ کی لکریوں کو گہرائیوں سے مطالعہ کیا اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی حکمت عملی کی۔ اور کسی کی بھی ہاتھ کی نشانیاں، لائنوں اور علامتیں اس کے ہاتھ کی طرح نہیں ہیں۔
وہ لوگ جن کے ہاتھوں پر حرف X کا نشان پایا جاتا ہے یا تھا یہ کچھ افراد ہیں جن کے ہاتھوں پر یہ حرف پایا جاتا ہے وہ لوگ چند ہی ہیں جن میں کے نام یہ ہیں، یونانی شہنشاہ الیگزینڈرز عظیم، صدر ابراہیم لنکن اور ان لوگوں میں سے ایک اب بھی زندہ ہے اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ہیں۔
میراث جن افراد کے ہاتھوں میں یہ لکیر موجود ہے وہ، وہ لوگ مرنے کے بعد بھی کئی عمر کے لئے یاد کئے جائیں گے اور، جن کےہاتھوں میں یہ لکیریں پائی جاتی ہیں وہ انتہائی کامیاب اور مقبول انسان ہوتے ہیں یا مستقبل میں ہونے کے بہت ذیادہ امکانات ہیں۔
جن کے ہاتھ کی ہتھیلی پر X کا نشان ہے ان افراد کی شخصیت کی علامات ان لوگوں کی چھٹیس بہت تیز اور علم اِلہام ہوتا ہے۔ یہ لوگ دور سے ہی خطرے، بیوفائی اور دھوکےبازی کا احساس کرلیتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ارد گرد ایسی طاقت پیدا ہوجاتی ہے کہ لوگ ان کے بیچ دخل اندازی سے بھی گھبراتے ہیں۔اگر آپ ان سے جھوٹ بولنے کی کوشش کریں گے تو ان کا سب سے برا حصہ دیکھنے کو ملے گا، یہ آپ کو معاف تو کردیں گے پر کبھی آپ کی دھوکےبازی بھولیں گے نہیں۔ اور انہیں کبھی کوئی نیچا نہیں دکھا سکتا نہ ہی نقصان پہنچا سکتا ہے یہی ان کی قسمت ہے۔یہ افراد بہت تیز، دور اندیش اور زہین اور بہترین یاداشت کے حامی ہیں۔ یہ لوگوں کو آسانی سے اپنا لیتے ہیں پر ان کے ساتھ گڑبڑ کرنا بہت مہنگا پڑ سکتا ہے

عجیب نفسیاتی عورت ہیں آپ۔ نجانے کون لوگ ہیں جو ممتا کے قصیدے اور ماؤں کی بےپناہ محبت کے فسانے ہر وقت الاپتے رہتے ہیں۔ مجھے تو آپ سے کبھی بھی سوائے سرد مہری کے کچھ نہیں ملا۔ یا تو وہ تمام لوگ جھوٹے ہیں یا آپ میں ہی کچھ کھوٹ ہے۔ یا پھر میں آپ کا خون نہیں بلکہ لےپالک بیٹا ہوں جو کبھی بھی آپ کی الفت کا حق دار نہیں بن سکتا۔ میں آج پھر دن بھر کا غصہ امی پر چنگھاڑ کر نکال رہا تھا اور وہ روز ہی کی طرح خاموش لیٹی مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھیں۔

لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ سن اور بول نہیں سکتی تھیں، مگر مجھے یہ بات کسی بھی طرح ہضم نہیں ہوتی تھی۔ جس سفاکی کے ساتھ وہ میری باتوں پر مسکراتی تھیں، مجھے لگتا تھا کہ وہ سن اور بول دونوں سکتی ہیں مگر صرف مجھے زچ کرنے کیلئے اس طرح خاموشی سے لیٹی رہتی ہیں۔

کبھی کبھی مجھے یہ بھی لگتا تھا کہ وہ یہ سب کچھ ایک کھیل سمجھ کرکرتی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ میں غصہ کروں، چلاؤں، اور آخر میں زچ ہوکر روپڑوں اور اس طرح وہ مجھے احساس دلائیں کہ میں اب بھی وہی چھوٹا سا بچہ ہوں جو بات بات پر ضبط کھو بیٹھتا تھا۔ جو ان کی زرا سی ناراضگی پر اس وقت تک رویا کرتا تھا جب تک وہ خود اسے اپنی ممتا کی آغوش میں نہ چھپا لیتیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ میں اتنا بڑا ہونے کے بعد بھی ان کے ساتھ بچوں ہی کی طرح برتاؤ کروں۔ ان کے آگے پیچھے گھوموں۔ اپنی ہر ضرورت کو ان سے جوڑ کر رکھوں۔ ان کے گلے میں جھولتا رہوں۔ ان سے فرمائشیں کروں۔ نا

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *