’میں جب بھی اپنی بیٹی کی شکل دیکھتی ہوں تو یاد آجاتا ہے کہ۔۔۔

جنسی درندگی کا نشانہ بننے والی خواتین کے لئے یہ ظلم کیسے عمر بھر کا روگ بن جاتا ہے اس کی ایک مثال یہ آسٹریلوی خاتون ہے جو اپنی کمسن بیٹی کو جب بھی دیکھتی ہے رو دیتی ہے۔ ریاست کوئنز لینڈ سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ تمارا کا کہنا ہے کہ وہ جب بھی اپنی بچی کی آنکھوں کو دیکھتی ہے تو اسے وہ درندہ یاد آجاتاہے جس نے اس کی عصمت دری کی اور اس بچی نے جنم لیا۔

’جمپائی ٹائمز‘ سے بات کرتے ہوئے تمارا نئے بتایا کہ ان کی بیٹی کی آنکھیں ہوبہو اس شخص جیسی ہیں جس نے انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا اور ہمہ وقت انہیں اس ظلم کی یاد دلاتی ہیں جس کے سبب ان کی زندگی برباد ہو گئی۔ اس تکلیف کے باوجود انہیں اس بات کا کوئی پچھتاوا نہیں ہے کہ انہوں نے اسقاط حمل نہیں کروایا اور اس بچی کو جنم دیا۔

تمارا نے زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اپنی بیٹی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ”اس کے بال بالکل میرے جیسے ہیں اور رنگت بھی میرے جیسی ہے۔ اس کی آنکھیں اس درندے جیسی ہیں، جنہیں دیکھ کر میں رو دیتی ہوں، لیکن پھر بھی یہ مجھے بہت پیاری ہے۔ ریپ کے نتیجے میں مَیں حاملہ ہوگئی لیکن میرے پاس یہ اختیار موجود تھا کہ میں اسقاط حمل کروادیتی۔ جب مجھے معلوم ہو اکہ میرے پیٹ میں ایک بچی پرورش پارہی ہے تو میں نے سوچا میں اسقاط حمل نہیں کراﺅں گی اور اس بچی کو جنم دوں گی۔“

تمارا کو ایک پارٹی کے دوران جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کے ساتھ زیادتی کرنے والا نوجوان نشے میں دھت تھا اور اگرچہ تمارا نے ہر ممکن مزاحمت کی لیکن اس کے باوجود اس وحشی نے حیوانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *